اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام میں سعودی عرب بمقابل قطر و ترکی، کی نیابتی جنگ (پراکسی وار) جاری ہے اور سعودی حمایت یافتہ "جبہۃالاسلامیہ" اور قطر و ترکی کی حمایت یافتہ تنظیم "جیش المجاہدین" شام میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور شام دشمن دہشت گرد تنظیموں کی نئی تصویر اور نیا خاکہ عالمی برادری کے سامنے لانا چاہتی ہیں اور دوسری طرف سے دہشت گرد تکفیری تنظیم داعش بھی اپنے زیر قبضہ علاقوں کو وسعت دینا چاہتی ہے جبکہ کل اس تنظیم کو شمالی علاقوں میں اپنے بعض اہم ٹھکانوں سے پسپائی اخیار کرنی پڑی ہے۔ داعش ترکی اور عراق کے ساتھ ملنے والی سرحدوں پر اہم گذرگاہوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہی ہے گوکہ اس کو الیعربیہ اور راس العین میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم وہ تل ابیض، باب السلامہ اور باب الہوی پر ایک بار پھر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ داعش نے دو ہفتے مسلسل دوسری دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لڑ کر باب الہوی کی طرف پیشقدمی کرتے ہوئے اطمہ، الدانہ اور سرمدا نامی قصبوں پر قبضہ کیا اور عملی طور پر سرحدی چوکی "باب الہوی" کا محاصرہ کرلیا اور اس گذرگاہ پر قبضہ کرنے کے لئے اس کو الاتارب نامی قصبے پر قبضہ کرنا ضروری تھا چنانچہ دوسری تنظیمیں اس کی ضرورت اور منصوبے سے آگاہ ہوگئیں اور انھوں نے درخواست کی کہ وہ اس علاقے سے پسپائی اختیار کرے لیکن داعش نہ مانی جس کے بعد لڑائی میں داعش کو الاتارب کے نواح سے بھی پسپائی اختیار کرنا پڑی تاہم اس نے شامی فوج کے ایک ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کرلیا جو اس سے قبل دہشت گرد تنطیم القاعدہ کے ذيلی گروہ جبہۃالنصرہ کے قبضے میں تھا اور الدانہ نامی قصبہ بھی اس کے کنٹرول سے خارج ہوا۔ بہرحال داعش پھر بھی باب الہوی اور تل ابیض پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ باب السلامہ نامی گذرگاہ اس کے کنٹرول میں ہے اور تل ابیض کا قصبہ ـ جو احرار الشام نامی دہشت گرد تنظیم کے قبضے میں ہے ـ اس وقت داعش کے محاصرے میں ہے اور باب الہوی کے نواح میں بھی داعش کے دہشت گرد موجود ہیں اور وہاں اپنے ٹھکانوں کو مستحکم کرنے کے لئے تازہ دم دستے بھجوا رہی ہے۔ واضح رہے کہ سرحدی گذرگاہوں پر داعش کا قبضہ ترک حکومت کے لئے ہرگز پسند نہیں ہے چنانچہ وہ مغربی ممالک کی مدد سے داعش مخالف تنظیموں کو تقویت پہنچا رہی ہے تا ہم داعش بھی ان گذرگاہوں سے چشم پوشی نہيں کرنا چاہتی کیونکہ ان گذرگاہوں سے قابض دہشت گردوں کو خاطر خواہ مالی آمدنی حاصل ہوتی ہے اور پھر وہ ان سرحدوں سے آنے والی مالی امداد، اسلحے کے کھیپوں اور مسلح دہشت گردوں نیز اشیائے خورد و نوش اور ڈیزل و پٹرول کو اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں اور وہ ان گذرگاہوں سے مختلف قسم کی اشیاء کی اسمگلنگ بھی کرلیتے ہیں جن سے چشم پوشی ممکن نہیں ہے چنانچہ دوسری تنظیموں نے خطرہ محسوس کرکے ان گذرگاہوں اور سرحدی علاقوں میں داعش کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا اور داعش کو نکال باہر کرنے کے لئے انھوں نے جبہۃالنصرہ کے ساتھ وقتی طور پر اتحاد کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ داعش عراق میں القاعدہ کے ماتحت ہے لیکن شام میں وہ القاعدہ کی باغی تنظیم سمجھی جاتی ہے چنانچہ اب جبہۃالنصرہ بھی اس کے خلاف لڑنے لگی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/٭۔٭